مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پانی کی قلت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے سابق وزير اعلی شہباز شریف نے خود کو ہر ادارے کا انچارج بنایا ہوا تھا۔ پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جڑواں شہروں میں پانی کی قلت پر ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ پانی و بجلی کے امور پر ہنگامی صورتحال میں کام کرنا ہوگا، نگراں وزیراعظم سے درخواست کروں گا پانی اور بجلی کے معاملے کو خود دیکھیں، نگراں وزیراعظم پانی کی قلت پر اجلاس بلائیں، جب تک مسئلے کا حل نہ نکلے مت اٹھیں، تمام ذمہ دار حکام کو ایک ساتھ ملکر فیصلہ کرنا ہو گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے خود کو ہر ادارے کا انچارج بنایا ہوا تھا، کوشش کرتا ہوں ایگزیکٹو کی حدود میں نہ جاوٴں، ہم اپنے اختیارات کے اندر رہ کر ہدایات جاری کر سکتے ہیں، پانی کے مسئلے کا حل وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالیں۔
پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پانی کی قلت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے سابق وزير اعلی شہباز شریف نے خود کو ہر ادارے کا انچارج بنایا ہوا تھا۔
News ID 1881699
آپ کا تبصرہ